(۴)سب سے بڑے حافظ حدیث:
حضرت سیّدنا تمیم بن منتصر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ ایک دن میں حضرت سیّدنا یزید بن ہارون رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی بارگاہ میں حاضرتھا،دورانِ گفتگو جب امام اعظم ابوحنیفہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا ذکرِ خیر ہوا تو ایک بے ادب شخص نے آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے لئے کچھ نازیباکلمات کہے،یہ سن کرحضرت سیّدنا یزید بن ہارون رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ گردن جھکائے کچھ دیرخاموش بیٹھے رہے ،لوگوں نے عرض کی:اللہعَزَّوَجَلَّ آپ پر رحم فرمائے ،آپ ہمیں معاملے کی حقیقت سے آگاہ فرمائیں؟پھرآپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے امام اعظم رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کے اوصاف بیان کرنا شروع کئے :امام اعظم ابو حنیفہ متقی ،پاکیزہ شخصیت کے مالک اورزبان کے حد درجہ سچے تھے ،دنیا کی حرص (لالچ)سے بے نیاز تھے ،اپنے زمانے میں سب سے بڑے حافظ ِحدیث تھے ،میں نے ان کے ہم زمانہ میں سےجتنوں کوبھی پایا سب کو یہی کہتے سنا کہ ’’امام اعظم ابو حنیفہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سب سے بڑے فقیہ تھے۔“(1)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!ہمارے امامِ اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم نہ صرف فقیہ اور محدِّث تھے بلکہ مجتہد کے درجے پر بھی فائز تھے اور ایک مجتہد کے لئے تمام قراٰنی آیات کامع ان کے شانِ نزول واقف ہونا اور تمام احادیثِ کریمہ کی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… اخبار ابی حنیفۃ،ذکر ماروی فی زھدہ،ص۴۸