Brailvi Books

حافظہ کیسے مضبوط ہو؟
33 - 195
 عَلَیْہ سے  دلیل پوچھی تو فرمایا:”میں نے یہ جوابات آپ ہی کی روایت کردہ احادیث کی روشنی میں بیان کئے ہیں۔“حضرت سیّدناامام اوزاعی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ حضرت سیّدناامام اعظم  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کے حافظے اور فقہی بصیرت پربے حدحیران ہوئے اور فرمایا: ”طبیب تو  آپ لوگ ہیں ہم توصرف دوا فروش ہیں۔ (1)
(۳)ایک لاکھ اشرفیوں پر ترجیح:
حضرت سیّدناامام اعظم ابو حنیفہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی قوتِ حافظہ کا یہ عالم تھا کہ آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو ہزار وں حدیثیں زبانی یاد تھیں  اور قراٰن و حدیث سے مسائلِ دینیہ نکالنے میں آپ کی مثال نہیں ملتی۔آ پ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے حدیثِ مبارکہ  سننا لوگ اپنے لیے سعادت سمجھتے اور اس پر بے حدمسرور بھی  ہوا کرتے چنانچہ  حضرت سیّدناحافظ محمد بن میمونرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں  : امام  اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کے زمانے میں آپ  جیسا  کوئی عالم تھا نہ ہی  پرہیز گار، اورنہ آپ جیسا کوئی عارف اور فقیہ تھا،خدا کی قسم !مجھےآپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے حدیث شریف سن کر اتنی مسرت وخوشی ہوتی ہے جتنی  ایک لاکھ اشرفیاں  (سونے کے سکے)ملنے سے بھی نہیں ہوتی ۔(2)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
 … مرقاۃ المفاتیح ،شرح مقدمۃ المشکاۃ ،۱/۷۴
2 … الخیرات الحسان، الفصل الثالث عشر،ص۴۹