میٹھےمیٹھےاسلامی بھائیو!ہمارے اما م اعظم ابو حنیفہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی شان بڑی نرالی ہے، اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے آپ کو وہ علمی مقام و مرتبہ اور اس قدْربلند منصبِ اجتہاد عطافرمایا تھا کہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے زمانے کے علماء اور آپ کے اساتذہ سب ہی آپ سے متأثر تھے۔ مذکورہ بالا واقعےسے حضرت سیّدناامام اعمش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے دِل میں آپ کا وہ مقام پیدا ہوگیا کہ اس کے بعد جب آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسے کوئی سوال پوچھتاتو آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہارشاد فرماتے: اس مسئلے کا جواب تو ابو حنیفہ ہی دے سکتے ہیں ،مجھے محسوس ہوتا ہےکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ان کے علم میں برکت دی ہے۔(1)
(۲)امام اوزاعی نے تحسین فرمائی:
حضرت سیّدناامامِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی فقاہت اور بے مثال حافظے کا ایک اور واقعہ ملاحظہ فرمائیے:چنانچہ اُستاذ المحدثین امام عبدالرحمٰن اوزاعی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ جن کا شمار بلند پایہ علماء میں ہوتا ہے، ایک دفعہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے حضرت سیّدنا امام اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم سے چند سوالات کیے ،امام اعظم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نےاپنی فقہی بصیرت کی روشنی میں شاندار جوابات ارشاد فرمائے۔امام اوزاعیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ان جوابات کو سن کر بہت متأثر ہوئے، آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… سیر اعلام النبلاء،ابو حنیفة، ۶/۵۳۷