کے لیے آپ کی ذات مَرجَعِ خَلائق تھی اسی خصوصیت کی وجہ سے آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کو بے مثال سمجھاجاتا تھا۔اپنے وقت کےعظیم محدِّث حضرت سیّدنا امام اَعمش سلیما ن بن مہران رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا شمارامامِ اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کے اساتذہ میں ہوتا ہےجو نہ صرف شہر ِکوفہ بلکہ پورےعراق میں علمِ حدیث کے حوالے سے مشہور تھے۔ایک دن حضرت سیّدناامام اَعمشرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے کچھ علمی سوالات کئے ،جس پر سیّدنا امامِ اعظمرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ایسے علمی اور فقہی جوابات ارشاد فرمائے کہ استادِ محترم حیران و ششدررہ گئے، حضرت سیّدنا امام اَعمشرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے اپنے اس لائق اور ہونہار شاگرد سے پوچھا :” آپ نے یہ جوابات کہاں سے سیکھے اورسمجھے؟ “سیّدناامامِ اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم نے فرمایا:”آپ نے جو ہمیں فلاں فلاں روایات بیان کیں تھیں بس انہیں کی بنیاد پر میں نے یہ جوابات بیان کیے ہیں۔“ حضرت سیّدنا امام اعمش رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ آپ کی خداداد قوتِ حافظہ اور بے مثال فقاہت دیکھ کر بے ساختہ پکار اٹھے: آپ تو طبیب ہیں اورہم آپ کی تجویز کردہ دواؤں کو فروخت کرنے والے(یعنی آپ قراٰن و حدیث کے دلائل سے مسائلِ شرعیہ نکالنے والے ہیں اور ہم لوگوں کوبیان کرنے والے۔)(1)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… الثقات لابن حبان،كتاب من روی عن اتبا ع التابعین ،باب العین، ۵/۳۳۴، رقم:۲۴۴۶