جب تک مائیں عبادت ورِیاضت کا شوق اور تِلاوت قراٰن کا ذوق رکھنے والی ہوتی تھیں، اُن کی گود میں پلنے والی اولاد بھی علم وعمل کا پیکر اور خوف خدا کا مظہر ہوا کرتی تھیں ۔جب ماؤں نے نمازیں ترْک کرنا اپنا معمول،فیشن کو اپنا شعار اور بے پردَگی کو اپنا وقار بنالیا تو اولادیں بھی اِسی ڈَگر پر چل نکلیں اور فحاشی وعُریانی اور بے راہ روی کا سیلاب حیا کو بہا کر لے گیا ۔
میں کر کے توبہ پلٹ کر گناہ کرتا ہوں حقیقی توبہ کا کر دے شَرَف عطا یاربّ
سنوں نہ فُحش کلامی نہ غیبت وچغلی تری پسند کی باتیں فَقَط سنا یاربّ
کریں نہ تنگ خیالاتِ بد کبھی ، کردے شُعُور و فکر کو پاکیزگی عطا یاربّ
نہیں ہے نامۂ عطارؔ میں کوئی نیکی فَقَط ہے تیری ہی رحمت کا آسرا یاربّ
(وسائل بخشش)
(۶)حضرت شاہ رکن عالم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کاحفظِ قراٰن:
سلسلۂ سہروردیہ کے عظیم پیشوا،قطبُ الاقطاب حضرت سَیِّدُنا رکن عالم ابُوالفتح شاہ رُکنُ الدین شاہ سہروردی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کی عمر مبارکہ چار سال چارماہ چاردن کی ہوئی ولیِ کامل،غوث الوقت،جد امجد حضرت سیّدنا بہاءالحق والدین زکریا ملتانی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی نے بِسْمِ اللہ شریف پڑھائی اوروالد بزرگوار قبلہ صدرالدین عارف بِاللہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے آپ کو قراٰن پاک حفظ کروانا شروع