Brailvi Books

حافظہ کیسے مضبوط ہو؟
28 - 195
وہ پڑھائے گا ۔اِدھر ناگور میں قاضی حمید الدین( رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ) کو اِلہام ہو ا کہ جلد جا!میرے ایک بندے کو’’ بِسْمِ اللہ ‘‘ پڑھا! قاضی صاحِب فوراً تشریف لائے اور آپ سے فرمایا: صاحِبزادے پڑھئے!بِسْمِ اللّٰه الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم، آپ نے پڑھا:اَعُوْذُ باِللّٰہِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْم بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم  اور شروع سے لے کر پَندرَہ پارے حِفْظ سنا دیئے ۔ حضرت قاضی صاحِب اورخواجہ صاحِب نے فرمایا: صاحِبزادے آگے پڑھئے ! فرمایا:میں نے اپنی ماں کے شِکَم (یعنی پیٹ)میں اِتنے ہی سُنے تھے اور اِسی قَدْر اُن (یعنی امّی جان )کو یاد تھے، وہ مجھے بھی یاد ہو گئے۔(1) 
 اللہ عَزَّ  وَجَلَّ   کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
خدا اپنی الفت میں صادِق بنا دے		مجھےمصطَفٰے  کا  تو  عاشق  بنا دے
میٹھے میٹھے اِسلامی بھائیو !اِس سےمعلوم ہوا کہ زمانۂ حمْل میں ماں کے مُعامَلات بچّے کی شخْصیَّت پر گہرا اثَر ڈالتے ہیں۔ اِس لیے ماں کو چاہیے کہ ان ایام میں اپنے اَفکار وخیالات کو پا کیزہ رکھنے کی کوشش کرے ۔اگر وہ یہ زمانہ کیبل اور وی سی آر پر فلمیں ڈرامے دیکھتے ہوئے گزارے گی تو شِکَم میں پلنے والی اولاد پر جو اثرات مرتّب ہوں گے وہ اولاد کے باشُعُور ہونے پر بآسانی مُلاحَظہ کیے جاسکتے ہیں۔ 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
 … ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت، ص ۴۸۱