حافظے کی) اس نعمت کو نبیٔ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی امت کے ساتھ خاص فرمایااور اس کی بدولت اس امت کی عزت افزائی فرمائی۔(1)
حضرت سیّدنا حسین بن عبدالرحیم عراقی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی اس امت کی خصوصیات ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں :”اس امت کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ لوگوں نے اپنی کم عمر ی میں جن علوم پرعبو ر حاصل کیا،سابقہ امتیں لمبی عمر ملنے کے باوجود حاصل نہ کرسکیں،یہی وجہ ہے کہ اتنی کم عمری میں اس امت کےمجتہدین پر علوم ومعارف کے خزانے کھل گئے۔(2)
میٹھےمیٹھے اسلامی بھائیو!بزرگانِ دین کی سیر ت میں حیران کُن قوت ِحافظہ کی سینکڑوں مثالیں موجود ہیں جنہیں پڑھ یا سن کر امتِ محمدیہ کی اس خصوصیت پر یقین نہ صرف قوی ہوتا ہے بلکہ اس کی بدولت سنتِ نبوی کی پیروی اور شریعت پر چل کر کامیابی پانے کا جذبہ بھی نصیب ہوتا ہے۔ ہمارے بزرگانِ دین نےبارگاہِ الہی سے ملنے والی قوتِ حافظہ اور ذہانت کے ذریعے دینِ اِسلام کی خدمت فرمائی اور ایسے کارنامے انجام دیے جو رہتی دنیا تک ہدایت اور
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… زرقانی علی المواهب،المقصدالرابع فی۔۔۔الخ،الفصل الرابع ما اختص بہ من الفضائل۔ ۔ ۔الخ، ۷/۴۷۸
2 … زرقانی علی المواهب،المقصدالرابع فی۔۔۔الخ،الفصل الرابع ما اختص بہ من الفضائل۔۔۔الخ،۷/۴۷۸