سے مشاورت جہاں وقت کی بربادی کا سبب بنتی ہے وہیں اس کے غلط مشورے پر عمل کی صورت میں سنگین نقصان بھی اٹھانا پڑسكتا ہےلہٰذا مشاورت کے عمل کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے حافظے کا قوی ہوناضروری ہے۔
(۴)اچھی یادوں سے محظو ظ ہونے کے لیے:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!زندگی کےکچھ لمحات ایسے ہوتے ہیں کہ جنہیں باربار یادکرکے خوشی محسوس ہوتی ہے۔ بعض اوقات ان لمحات کو بطور ترغیب بھی ذکر کیا جاتا ہے۔صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ گزارے ہوئے لمحات کو یاد فرما كر خوشی محسوس کرتے ،بلکہ بعض روایات بیان کرنےوالوں کا انداز اس طرح ہوتا کہ جیسے راوی کے پیش نظر وہ تمام منظر ہو۔ اسی طرح اگر زیارتِ مقاماتِ مقدسہ کی یادیں ذہن میں نقش ہوں تو ان کے خیال سےدل کو فرحت اور روح کو سکون ملتا ہے ۔خوشی کے ان لمحات کو یادداشت میں محفوظ رکھ کرزندگی کو خوش گوار بنایا جاسکتا ہے،خاص طور سفر مدینہ کے یاد گار لمحات ذہن میں بسائے رکھنے کی وجہ سے عشقِ رسول میں اضافہ ہوتا ہے۔
(۵)دلچسپ گفتگو کرنے کے لیے:
گفتگو میں نرمی اختیار کرنا بھی بہت اچھی خوبی ہے لیکن بات چیت کو دلچسپ اور مؤثر بنانےنیز بات سمجھانے کے لیے بوقت ضرورت محاوروں اور