تھے کہ ”ہماری درس گاہ میں اپنے کم عمر بچوں کو بھیجا کرو کیوں کہ ان کے دل بالکل خالی ہوتے ہیں اور وہ سن کر جلد یاد کرلیتے ہیں۔“(1)
اگر عمارت کی بنیا د ہی ٹیڑھی ہوتو۔۔۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! کہتے ہیں کہ اینٹ یاکسی عمارت کی اگر بنیاد ہی ٹیڑھی ہو تو عمارت کو لاکھ سیدھا کرنے کی کوشش کریں وہ ہمیشہ ٹیڑھی کی ٹیڑھی ہی رہے گی، والدین بچوں کو اچھی تربیت نہیں کرتے اور پھرجب وہ بڑے ہوجاتے ہیں تو ان کے گناہوں بھرے معاملات دیکھ کرکڑھتے رہتے ہیں ، آئیے !اپنے بچوں کی تربیت کا ساما ن کرنے کے لئے انہیں دعوتِ اسلامی کے مدرسۃ المدینہ،دار المدینہ یا جامعۃ المدینہ میں داخلہ دلوائیے، اور زہے نصیب خود بھی مدَنی ماحو ل سے وابستہ ہوجائیے،کہ سنّتوں بھری زندگی گزارنے میں سوائے بھلائی کے اور کچھ نہیں ۔مدَنی ماحول سے وابستہ ہوکر عمامے شریف کا تاج سجالیجیےکہ عمامہ باندھنے کے جہاں بے شمار فوائد ہیں وہیں اس کی برکت سے حافظہ بھی قوی ہوجاتا ہےجیساکہ حضرت سیّدنا ربیع رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:’’ اِنّى لَأَجِدُ العِمَّةَ تَزِيدُ فِى العَقلِمیرے نزدیک عمامہ باندھنے سے عقل میں اضافہ ہوتا
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… الجامع فی الحث علی حفظ العلم،ص۱۶۹