Brailvi Books

حافظہ کیسے مضبوط ہو؟
188 - 195
 اسلام کے ہر شعبے میں اپنی خدمات سرانجام دے رہی ہےاور بے عمل اور بدکرار مسلمانوں کی اخلاقی اور اسلامی تربیت کرکے انہیں جینے کا شعور سکھا رہی ہے اور ایک سچا مسلمان بنارہی ہے۔ 
ایک انسان کو اگر بچپن سے اچھا اور نیک ماحول میسر آجائے اور وہ سنّتوں بھری فضاؤں میں پرورش پانے لگے تواس کی اسلامی تربیت کی بدولت اخلاق و کردار سنور جاتا ہےجس کی برکت سے حافظہ بھی مضبوط ہوتا ہے،اسی اہمیت کے پیشِ نظر دعوتِ اسلامی نے مدارس المدینہ (للبنین، للبنات)قائم کئے ،اسکول پڑھنے والے بچوں کے لیے ’’دَارُ المدینہ ‘‘تعمیر کئےاور اس میں سنّتوں بھری تربیت کا ایک مؤثر نظام متعارف کرایااور یہ سب اس لیے کہ کم عمر ی میں ہونے والی تعلیم و تربیت زندگی بھر کے لئے ذہن میں محفوظ ہوجاتی ہے چنانچہ
 نبیٔ کریم،رء وفٌ رَّحیم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: حِفْظُ الْغُلَامِ كَالنَّقْشِ فِي الْحَجَرِ وَحِفْظُ الرَّجُلِ بَعْدَمَا كَبُرَ كَالْكِتَابِ عَلَى الْمَاء یعنی چھوٹے بچے کا یاد کرنا پتھر پر لکیر کی طرح ہےاور مرد کا بڑھاپے میں کسی چیز کو یاد کرناپانی پر لکھنے کے مانند ہے۔(1)
اسی طرح حضرت سیّدنا حسن رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ لوگوں سے  فرمایا کرتے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
 … الفقیہ و المتفقہ،باب التفقہ فی الحداثۃ و زمن الشبیبۃ،۲/۱۸۰،رقم:۸۲۰