بخش غذاؤں کا استعمال اوراورادو وظائف کے علاوہ یادداشت بڑھانے والےمعمولات کے مطالعے سے اس بات کا پتہ چلا کہ ہمارے روز مرہ کے معمولات سے ہماری یادداشت کابڑا گہرا تعلق ہے، اگر ہم گناہوں سے بچیں ، تلاوتِ قراٰن کرنےاورنماز پڑھنے کی عادت بنائیں،ذکر و اذکار کرنے اور درود شریف پڑھنے کا شوق پیدا کریں،کپڑے اوربدن کو صاف ستھرا رکھیں،اچھی اور منظم زندگی گزارنے کے ساتھ ساتھ اپنے مطالعے کو بھی بامقصد اور منظم بنائیں ، اپنے مطالعے کو گفتگو کا حصہ بنانے کے ساتھ اسے عملاً اپنی زندگی میں بھی نافذ کریں ، حرام اور مشتبہ چیزوں سے بچتے ہوئےحلال ،پاکیزہ اور صحت بخش غذائیں کھانے کی عادت بنائیں تو یقیناً یہ چیزیں ہمارے حافظے پر اپنے اچھے اثرات مرتب کریں گی اور ہماری یادداشت کو قوت بخشیں گی۔
اگر مدنی ماحول میسر آجائے تو۔۔۔
ہمارا مذہبِ اسلام ان چیزوں کو پسندفرماتا ہے اور ایسی پاکیزہ زندگی گزارنے کا حکم صادر فرماتا ہے،مگر بدقسمتی سے جہاں دیگر اسلامی احکام بجالانے میں سستی کا دور دورہ ہے وہیں یوں لگتا ہے کہ ان چیزوں پر بھی عمل نہ کرنے کا ہم نے تہیہ کررکھا ہے۔
تبلیغِ قراٰن و سنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی دین