Brailvi Books

حافظہ کیسے مضبوط ہو؟
171 - 195
میں شہوت ابھرتی ہےلہذا بدنگاہی سے ہمیشہ بچتے رہنے ہی میں عافیت ہے۔اللہ عَزَّوَجَلَّ کے خوف سے بدنگاہی نہ کرنے والے کو حلاوتِ ایمانی نصیب ہوتی ہے چنانچہ حضرت سیّدناابن مسعو درَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم نے اپنے رب عَزَّ  وَجَلَّ سے روایت کرتے ہوئے فرمایا:’’بدنگاہی شیطان کے تیرو ں میں سے زہر میں بجھا ہوا ایک تیر ہے ،جو اسے(یعنی بد نگاہی کو) میرے خوف سے چھو ڑ دے گا میں اسے ایسا ایما ن عطا فرماؤں گا جس کی مٹھاس وہ اپنے دل میں محسوس کریگا۔‘‘(1)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!بدنگاہی کے ساتھ ساتھ فُضول نگاہی سے بھی بچنا اور حیا سے اکثر نظریں نیچی رکھنا دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول میں’’آنکھوں کا قفلِ مدینہ ‘‘ کہلاتا ہے ۔لہذا اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی رضاپانے اور اپنے حافظے کو بچانے کے لیے آنکھوں کا قفل مدینہ لگانا مفیدترین ہے ۔ حضرت علامہ ابراہیم بن محمد شافعی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی  نے  قلائد العقیان میں حافظے کی کمزوری کا سبب ان چیزوں کو قرار دیاہے:(۱)اپنی یا کسی اور کی شرم گاہ کو دیکھنا(۲)میت کے چہرے کی طرف دیکھنا(۳)سولی پر لٹکے ہوئے شخص کو دیکھنا(۴)کھڑے پانی کو دیکھنا اور
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
 … معجم کبیر ،مسند عبداللہ بن مسعود  ، ۱۰/ ۱۷۳،حدیث: ۱۰۳۶۲