کم ہوجائے،بلاؤں کا ہجوم رہے،عمر گھٹتی چلی جائے ،عبادت سے محرومی رہے،عقل میں فتور پید۱ ہوجائے ،بندہ لوگوں کی نظر میں ذلیل و خوار ہوکر رہ جائے،نعمتیں چھن جائیں،ہر وقت پریشانی گھیرے رکھے،لاعلاج بیماری میں مبتلاہوجائے،چہرے سےایمان کا نور ختم ہوجانے کی وجہ سے بے رونق ہوجائے تو ان گناہوں کی وجہ سے پیدا ہونے والی نحوستوں کے سبب کسی بات کا یاد کرنا یا رکھنا کیوں کر ممکن ہوسکتا ہے؟ویسے تو تمام ہی گناہ قوت حافظہ کمزور کرتے اور نسیان کو تقویت پہنچاتے ہیں لیکن کچھ گناہ وہ ہیں جو حافظے کو بہت جلد کمزور کردیتے ہیں جن میں سے چند یہ ہیں:
آلات ِ حافظہ سے کیے جانے والے گناہ:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!زبان ،آنکھ اور کا ن کسی بھی چیز کو یادداشت میں محفوظ کرنے کے لیے آلے(Instrument)کا کام کرتے ہیں، یقیناً ان میں جتنی کمزوری پیدا ہوگی حافظہ اتنا ہی کمزور ہو گا اور نسیان کا مرض بڑھتا چلاجائے گا لہذا حافظے کو نسیان جیسی بیماری سے محفوظ رکھنے کے لیے آنکھ،کان اور زبان کو گناہوں سے بچانا بے حد ضروری ہے۔حافظے کےتینوں آلات سے ہونے والے جن گناہوں سے نسیان کا مرض پیدا ہوتا ہے اس کی تفصیل کچھ یوں ہے:
(۱)بدنگاہی،نسیان کا سب سے بڑا سبب:
بدنگاہی نسیان کا سب سے بڑا سبب ہےچونکہ بد نگاہی کی وجہ سے دل