Brailvi Books

حافظہ کیسے مضبوط ہو؟
162 - 195
 عطاسے نبی عَلَیۡہِ السَّلاَمکرسکتے ہیں وہی خلافِ عادت کام اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی عطاسے نبیعَلَیۡہِ السَّلاَم  کے طفیل اولیائے کرام رَحِمَھُمُ اللہُ السَّلَامبھی کرسکتے ہیں ۔لہٰذا اللہ والوں کی صحبت اور ان کی نگاہِ فیض جہاں دیگر امراض کے لئے مفید ہے وہیںمرضِ نسیان کے علاج کے لئے بھی اکسیر ہےچنانچہ 
ولیِ کامل کی نظرِ عنایت سے نسیان دور ہوگیا:
حضرت علامہ عبدالعزیز پِرہاروی عَلَیۡہِ رَحۡمَۃُ اللہِ الۡقَوِیۡبچپن میں بہت کُند ذہن تھے۔ انتہائی کوشش کے باوجود اپناسبق یاد نہیں ہوتاتھا،ایک دن نہایت رنجیدہ ہوکر ایک کونے میں جاکربیٹھ گئے اور زاروقطار رونے لگے،اسی دوران (آپ کے پیرو مرشد)حضرت  سیّدناشاہ  جمال اللہ چشتی ملتانی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کی نظران پر پڑی تو کمال شفقت فرماتے ہوئے ان سےپوچھا:”عبد العزیز کیوں رنجیدہ ہو؟ “عرض کی:”حضور کوشش کےباوجودسبق یاد نہیں ہوتا۔“آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نےفرمایا:”ہمارے پاس آؤ اور ہمارے سامنے سبق پڑھو۔“حضرت علامہ پرہاروی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ حکم کی بجاآوری کرتے ہوئے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے سامنےبیٹھ گئے اور اپنا سبق پڑھنا شروع کیا،اسی دوران حضرت  سیّدناشاہ جمال اللہ چشتی ملتانی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ان پر ایسی نظرِ عنایت ڈالی کہ نسیان کا مرض جاتا رہااور پھر یہ عالم ہوگیاکہ اس کے بعد جو کتا ب ایک مرتبہ پڑھتے کبھی نہ بھولتے۔بلکہ مشکل