میں اگر کوئی اپنے اعمالِ صالحہ ،اطاعتِ رسول و عشقِ مصطفےٰ کے سبب مقبول ہو توکریم آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمخود ہی کرم فرمادیتے ہیں ،جیساکہ:
کندذہنی ختم ہو گئی:
شارح عقائدِ نسفیہ حضرت سیّدنا سعدالدین مسعود بن عمرتفتازانی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہقاضی عُضُدالدین عبدالرحمٰن شیرازی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے حلقۂ درس میں سب سے زیادہ کُندذہن کہلاتے تھے۔اس کے باوجود آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے ہمت نہ ہار ی بلکہ کسی کی بات کو خاطر میں لائے بغیراپنے اسباق کو پڑھنے اور یاد رکھنے کے لئے کوشش اور محنت جاری رکھی۔ايك بار سركارِمدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ایسا کرم فرمایاکہ کند ذہنی ختم ہو گئی اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے بے مثال حافظہ عطا فرما دیا۔(تفصیلی واقعہ صفحہ۱۱۹پر ملاحظہ فرمائیے) (1)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیودیکھا آپ نے! لگن سچی ہو تو ایک دن محنت رنگ لے ہی آتی ہے۔اس حکایت میں ایسے اسلامی بھائیوں کے لیے مدنی پھول ہیں جو کند ذہنی کی وجہ سے دل برداشتہ ہو کر محنت کرنا چھوڑ دیتے ہیں اور یہ ذہن بنا لیتے ہیں کہ میں کچھ نہیں کر سکتا،حالانکہ انہیں ایسا نہیں سوچنا چاہئے کیونکہ انسان محنت کرے ،نیت اچھی ہو ،لگن سچی ہو تو محنت بے کار نہیں جاتی لہٰذا ایسے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… شذرات الذھب،سنۃ احدی و تسعین وسبعمائۃ، ۷/۶۸