Brailvi Books

حافظہ کیسے مضبوط ہو؟
152 - 195
 تھا۔ نبیٔ کریمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم نے اپنا کلام پورا فرمالیا تو میں نے وہ کمبل سمیٹ کراپنے سینے سے لگالیا ۔اس ذات کی قسم جس نے حضور کو حق کے ساتھ بھیجا میں  اس دن کے بعد حضور  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا کوئی فرمان نہیں بھولا۔(1)
مفسرِ شہیر،حکیم الامت مفتی احمد یارخان نعیمیعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی اس حدیثِ پاک کی شرح میں فرماتے ہیں:ایک دن دریاۓ عطا موجزن تھا لوگوں کو قوتِ حافظہ تقسیم فرمارہے تھے ،فرمایا کوئی ہے جو اپنا کپڑا بچھائے ہم ایک دعا پڑھتے ہیں جب وہ دعا ختم ہوجائے تو وہ یہ ہی کپڑا اپنے سینے سے لگالے اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّاس کا حافظہ بہت ہی قوی ہوجائے گا۔خیال رہے کہ تھوڑی چیز ہاتھ پھیلا کر لی جاتی ہے مگر بڑے سخی کی بڑی عطا چادر پھیلا کر سمیٹی جاتی ہے یہاں چادر پھیلانےکا حکم دیا گیا معلوم ہوتا ہے عطا بڑی ہے۔خیال رہے کہ قوتِ حافظہ انسان کی ایک صفت ہے جو قدرتی طور پر لوگوں کو عطا ہوتی ہے کوئی قوی حافظے والا ہوتا ہے کوئی ضعیف حافظہ والا، اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور صفاتِ انسانیہ بھی عطا فرماتے ہیں بحکم پروردگار     ؎ 
مالک ہیں خزانہ قدرت کے جو جس کو چاہیں دے ڈالیں
دی خلد جناب ربیعہ کو بگڑی لاکھوں کی بنائی ہے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
 … مسلم،کتاب فضائل الصحابہ،باب من فضائل ابی ھریرۃ،ص۱۳۵۳، حدیث:۱۵۹ملتقطا