حضرت سیّدنا عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں: اللہعَزَّوَجَلَّ کی قسم پانچ یا سات ہفتے نہ گزرے تھے کہ حضرت علی المرتضٰی کَرَّمَ اللہُ وَجْہَہُ الْکَرِیْمایک بار پھر بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے اور(مذکورہ وظیفے کی برکتیں بیان کرتے ہوئے)عرض کرنے لگے:یارسول اللہ! میں پہلے چار آیات بھی یاد نہیں کرسکتا تھا ،وہ بھی بھول جاتا تھا اور اب تقریبا ًچالیس آیات یاد کر لیتا ہوں، جب میں ان آیات کو پڑھتا ہوں تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ قراٰن شریف میرے سامنے ہے، میں اس سے پہلے حدیث پا ک سنتا تھا پھر جب دہرا تا تو یاد نہ رہتی تھی اور اب میں احادیث سنتا ہوں پھر جب بیان کرتا ہوں تو ایک حرف بھی مجھ سےنہیں چھوٹتا، اس پر نبیٔ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: اے ابو الحسن! ربِ کعبہ کی قسم تم مومن ہو ۔ (1)
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِيْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
(۳)صحت بخش غذائیں استعمال کیجئے
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!یہ ایک حقیقت ہے کہ مختلف نوعیت کی غذائیں انسانی بدن پر طرح طرح کے اثرات مرتب کرتی ہیں ، بعض غذائیں جسم کو
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… ترمذی،کتاب الدعوات،احادیث شتی، باب فی دعاء الحفظ،۵/۳۳۲،حدیث:۳۵۸۱