صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےفرمایا: اے ابوالحسن! کیا میں تمہیں ایسے کلمات نہ سکھاؤں جن سے نہ صرف تمہیں فائدہ ہو بلکہ جسے تم یہ کلمات سکھادو ،وہ بھی اس سے فائدہ حاصل کرے اور جو تم یاد کرو وہ تمہارے سینے میں محفوظ ہوجائے؟۔حضرت سیّدنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ وَجْہَہُ الْکَرِیْمنے عرض کی: کیوں نہیں یارسول اللہ!ضرور سکھائیے۔
حضور عَلَیۡہِ الصَّلاَۃُ وَالسَّلاَم نےفرمایا:جب جمعہ کی رات آئے تو اگرہوسکے تو تم رات کے تیسرے (یعنی آخری )پہر میں اٹھو کہ بیشک اس وقت فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور اس وقت دُعا قبول ہوتی ہے۔بیشک میرے بھائی یعقوب(عَلیٰ نَبِیِّنَاوَعَلَیۡہِ الصَّلاَۃُ وَالسَّلاَم)نے اپنے بیٹوں سے فرمایا تھاکہ عنقریب میں اپنے رب عَزَّ وَجَلَّ سے تمہارے لئے مغفرت طلب کروں گا،یہاں تک کہ جمعہ کی رات آجائے۔پھر اگر تم سے یہ نہ ہوسکے تو آدھی رات میں اٹھو اور اگر یہ بھی نہ ہو سکے تو رات کے ابتدائی حصے میں کھڑے ہوجاؤ اور چار رکعت نمازپڑھو، پہلی رکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعدسورۂ یٰس کی تلاوت کرو،دوسری رکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد حٰمٓ الدُخَان کی تلاوت کرو، تیسری رکعت میں فاتحہ اور الم تنزیل السجدہ اور چوتھی رکعت میں سورۂ فاتحہ اور تبارک الذی کی قراءت کرو۔پھر جب تَشَہُّد(یعنی التحیات ودُرُودشریف وغیرہ کے بعدسلام پھیر چکو تونماز) سے فارغ ہونے کے بعد