Brailvi Books

حافظہ کیسے مضبوط ہو؟
121 - 195
سعدالدین تفتازانی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کی  فریاد سن کر دریائے رحمت جوش میں آیا ، نبیٔ رحمت،شفیعِ امت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےفرمایا:”اپنا منہ کھولو۔“  آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ  نے منہ کھولا تو سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّمنے اپنا لُعابِ دَہَن آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے منہ میں ڈال دیا،آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کے لیے دعا فرمائی اورکامیابی کی بشارت عطا فرماکر گھر لوٹ جانے کا حکم ارشاد فرمایا۔دوسرے دن جب آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہقاضی عضُد الدین کے درس میں حاضرہوئے تودورانِ سبق آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے استادصاحب کے درس میں کچھ علمی سوالات کئے (جو معنوی اعتبار سے باریک بینی اور گہری سوچ کا نتیجہ  تھے)درس میں شریک طلبہ ان سوالات کی گہرائی تک نہ پہنچ سکے اور فضول و بے معنی سمجھ کر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی باتوں سے صَرفِ نظر کرنے لگے، مگر آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ  کے استاد قاضی عُضُد الدین رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ جو بذاتِ خود میدانِ علم کے شہسوار تھے ، حضرت سعد الدین تفتازانی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کی علمی باتیں سن کراَشکبا ر ہوگئےاور آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کومخاطب کرکے ارشاد فرمایا:”اے سعد الدین! آ ج تم وہ نہیں ہو جو کل تھے ۔“پھر حضرت سیّدنا سعدالدین تفتازانی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ  نے تمام واقعہ استاد صاحب کی بارگاہ میں  بیان کردیا۔(1)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
 … شذرات الذھب،سنۃ احدی و تسعین  وسبعمائۃ، ۷/۶۸