سعدالدین !اٹھو ،ہم سیر وتفریح کرنے چلتے ہیں ۔آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: ”مجھے سیر و تفریح کے لیے پید ا نہیں کیا گیا،(نیز میری حالت ایسی ہے کہ) مطالعے کے باوجود مجھےکچھ سمجھ نہیں آتا ، میں بھلا کس طرح سیر کو جاسکتا ہوں؟“یہ سن کروہ شخص چلاگیا لیکن کچھ دیر بعدپھر لوٹ آیا اور سیرو تفریح کے لیے چلنے کو کہا۔ آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے اپنا سابقہ جواب دہرا یا اور اسے چلتا کیا۔ وہ پھر چلاگیا لیکن کچھ دیر بعد دوبارہ لوٹ آیا اور اب کی بارکہنے لگا:”آپ کو رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم یاد فرمارہے ہیں۔“یہ سن کر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے بدن پر کپکپی طاری ہوگئی اور ننگے پاؤں ہی محبوب ِربِّ اکبر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دیدار کے لیے دوڑپڑے حتی کہ شہر سے باہرایک مقام پر پہنچے جہاں نبیٔ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ایک گھنے درخت کے سائے میں جلوہ فرماتھے۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سعد الدین تفتازانی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو دیکھ کر مسکراتے ہوئے ارشاد فرمایا:ہمارے بار بار بلانے پر آپ نہیں آئے ؟ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے انتہائی عاجزانہ لہجے میں عرض کی:”یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!مجھے معلوم نہیں تھا کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمیاد فرمارہے ہیں او ر آپ تو میری کند ذہنی اور کمزور یادداشت سے بخوبی آگا ہ ہیں ،میں آ پ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کی بارگاہ میں اپنے مرض سے شفاکا طلب گارہوں۔“حضرت