اگر کوشش کرے انسان ۔۔۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!یقیناً قوتِ حافظہ اللہعَزَّوَجَلَّ کی عطاکردہ نعمت ہے لیکن اگر کسی کا حافظہ کمزور ہوتو اسے دل برداشتہ نہیں ہونا چاہئے بلکہ محنت اورلگن کے ساتھ مقصد پانے کے لئےبھر پور کوشش کرنی چاہئے،کیونکہ اللہعَزَّوَجَلَّکسی کی محنت کو کبھی ضائع نہیں فرماتا لہٰذا ہمیں کوشش کرتے رہنا چاہئے اور معاملہ اللہعَزَّوَجَلَّکے سپرد کردینا چاہئے، نجانے کہاں اور کس وقت ہماری محنت رنگ لے آئے اور ہم پر کرم ہوجائے۔تاریخ میں ایسےکئی واقعات ملتے ہیں جس کے ذریعےاس حقیقت کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے،انہی میں سے ایک واقعہ ملاحظہ فرمائیے چنانچہ
حضرت سیّدنا سَعدُالدِّین مسعود بن عمرتَفتازَانی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ جن کی کتابیں درسِ نظامی (عالم کورس) کے نصاب میں شامل ہیں۔ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ قاضی عضُدُالدِّین عبدالرحمٰن شیرازی کے حلقۂ درس میں سب سے زیادہ کُندذہن تھے، بلکہ کُندذہنی میں آپ کی مثال دی جاتی تھی ۔اس کے باوجود آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے ہمت نہ ہار ی بلکہ کسی کی بات کو خاطر میں لائے بغیراپنے اسباق پڑھنے اور یاد رکھنے کے لئے کوشش اور محنت جاری رکھی۔ایک دن آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ سبق یاد کرنے میں مصروف تھے کہ ایک اجنبی شخص نے آکر کہا: