اس کی برکت سے جہاں علم میں پختگی آئےگی وہیں معلومات کا بیش قیمت خزانہ ہاتھ آئے گاچنانچہ حضرت سیّدنا عبد اللہ مُعْتَز رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:جو علماء کے مذاکرے میں کثرت سے شرکت کرتا ہے ،توجتنا وہ جانتا ہےاسے (دہرائے جانے کی وجہ سے)نہیں بھولتااور جن باتوں کو نہیں جانتا ،توان علمی مذاکروں کی برکت سے اُسے جاننے کا موقع میسر آتا ہے۔(1)
میٹھےمیٹھے اسلامی بھائیو!حضرت سیّدنا عبد اللہ مُعْتَز رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہکے اس قول سے ’’مدَنی مذاکروں‘‘کی اہمیت بخوبی واضح ہوجاتی ہے۔شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ مدَنی مذاکروں میں علمِ دین کے رنگ برنگے مدنی پھول ارشاد فرماتے ہیں،اپنے تجربات کی روشنی میں پیچیدہ مسائل کا حل بتاتے ہیں اورعلم و حکمت کے مدنی پھول ارشاد فرماکر سامعین کے علم میں اضافہ فرماتے ہیں۔ آپ دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے یہ مدَنی مذاکرے صرف عام لوگوں کے لئے ہی فائدہ مند نہیں بلکہ علماء کے لئے بھی یکساں مفید ہیں، کیونکہ ان مدنی مذاکروں کی برکت سے اپنے علم پر عمل کرنے ،اسے دوسروں تک پہنچانےاور مزید مطالعہ کرنے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے، جو بات پہلے سےمعلوم ہے اس کی دہرائی کی ترکیب بنتی ہے اور معلوم نہ ہونے کی صورت میں مزید علمِ دین حاصل کرنے کی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…الجامع لاخلاق الراوی و آداب السامع ،المذاکرۃ مع الشیوخ و ذوی الاسنان ، ص۴۶۵