کرتےرہیئے۔
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِيْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان بھی احادیثِ مبارکہ کی تکرارفرمایا کرتے تھے چنانچہ حضرت سیّدنا انس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتےہیں :”ہم بارگاہِ رسالت میں حاضرہو کر حدیث شریف سنا کرتے تھے جب نبیٔ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماپنی کسی حاجت کےسبب تشریف لے جاتے تو ہم حدیث کی تکرار شروع کردیتے ،پھر جب ہم وہاں سے اٹھتے تو ایسا محسوس ہوتا کہ وہ تمام کی تمام احادیث ہمارے دل (کی زمین)میں بو دی گئی ہیں۔“(1) اسی طرح کسی مواد کو فقط یاد کرلینا کافی نہ سمجھئے بلکہ وقتاً فوقتاًاس کی دہرائی کی ترکیب فرمائیے۔ ہمارے اسلاف رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام بھی اسی طرز کو اپناتے تھے جیساکہ حضرت خطیب بغدادی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: یاد کی ہوئی چیزوں کو باربار دہرا کر ہی یاد رکھا جاسکتا ہے۔حضرت سیّدنا ابنِ شہاب زُہری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسے مَروِی ہے علم دو سبب سے جاتارہتاہے (۱)نسیان کا طاری ہونااور(۲) تکرار نہ کرنا۔ حضرت سیّدنا خطیب بغدادی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:سیکھنے والے کو چاہیے کہ اپنے کسی ہم درجہ کی رَفاقت اِختیار کرے اور وہ ایک دوسرے سے سبق کی دہرائی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… مسند ابی یعلی،مسند انس بن مالک،۳/۳۹۴،حدیث:۴۰۷۷