مطالعہ کرنے کے بعدتمام مطالعے کو ابتداسے انتہا تک سرسری نظر سے دیکھا جائےاور اس کا ایک خلاصہ اپنے ذہن میں نقش کرلیا جائے ، یہ عمل حاصلِ مطالعہ کو دوام بخشے گا۔ اس کے لیے اپنا اِحْتِساب کرنا بھی فائدہ مند ہے ،یہ عادت بنائیے کہ کسی بھی چیز کو پڑھنے کے بعداپنا احتساب کیجئے کہ“ مجھے اس مطالعے سے کیا حاصل ہوا اور کون سا مواد ذہن نشین ہوا اور کون سا نہیں ۔”
(۲)اپنی معلومات کو گفتگو کا حصہ بنائیے:
سنجید ہ اور پروقار لوگوں کی علم سے مالا مال باتیں اس لیے پسند کی جاتی ہیں کہ وہ ہمیشہ اپنے مطالعے کو گفتگو کا حصہ بناکر بات کو مُؤَثِّر بنادیتے ہیں،ان کی ہر بات سے علم وحکمت کے مدنی پھول حاصل ہوتے ہیں اور ان کے مطالعے کا اثر ان کے اَفعال و کردار سے بھی نمایاں ہوتا ہے۔لہذاہمیں بھی چاہیے کہ جومطالعہ کریں اُسے اچھی اچھی نیتوں کے ساتھ اپنے گھر والوں اور دوستوں سے بیان کریں اس طرح بھی معلومات کا ذخیرہ طویل مدت تک ہمارے دماغ میں محفوظ رہے گا۔
(۳)تکرار سے تقریر آتی ہے:
مشہور مقولہ ہے:’’مَاتَکَرَّرَ تَقَرَّرَ یعنی جس بات کی تکرار کی جاتی ہے وہ دِل میں قرار پکڑلیتی ہے۔‘‘(1) لہذا جو کچھ پڑھیں اس کی دہرائی (Repeat)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…عمدۃ القاری، کتاب المساقاۃ، باب بیع الحطب والکلاء، ۹/۹۰، تحت الحدیث:۲۳۷۵