ہوجائے گی۔(1)لہٰذا رات کے پر سکون وقت میں یاد کرنا نہایت مفید ہے اور بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللہُ المُبِین کی سیر ت پر عمل کی نیت ہو تو جلد یاد ہوجانے کی قوی امید ہے۔
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِيْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
بچوں کو سوتے ہوئے کچھ نہ کچھ یاد کروائیں:
سائنسی تحقیق کے مطابق چھوٹی عمر میں سونے سے قبل جو بھی یاد کیا جائے وہ بہت جلد ذہن نشین ہو جاتا ہے لہذا بچے نیند سے پہلے جو کچھ سیکھتے اور یاد کرتے ہیں اس کے مثبت نتائج سامنے آتے ہیں جیسا کہ حضرت سیِّدُنا سہل بن عبداللہ تُستری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:” میری عمر تین سال تھی اور میں رات کو اٹھ کر اپنے ماموں حضرت سَیِّدُنامحمد بن محمدبن سوّاررَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کو تنہائی میں نمازپڑھتے دیکھتا تھا۔ ایک دن میرے ماموں نے مجھ سے پوچھا: ”کیا تو اُس اللہ عَزَّ وَجَلَّ کویاد نہیں کرتا جس نے تجھے پیدا کیا ؟“ میں نے پوچھا:”میں اسے کس طرح یاد کروں ؟“ انہوں نے فرمایا:”جب تم بستر پر لیٹنے لگو تو تین بار زبان کو حرکت دئیے بغیر محض دل میں یہ کلمات کہو: “ اَللہُ مَعِیَ،اَللہُ نَاظِرٌ اِلَیَّ،اَللہُ شَاھِدِیْ یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ میرے ساتھ ہے ، اللہ عَزَّ وَجَلَّ مجھے دیکھ رہا ہے اللہ عَزَّ وَجَلَّ میرا گواہ ہے ۔”
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… الجامع لاخلاق الراوی و آداب السامع،ماینبغی للطالب ان یوظفہ، ص۴۶۰