یاپڑھیئے کہ اگر یہ سب کچھ مجھے بیان کرنے کا کہا جائے یا کسی کو سمجھانے یا بتانے کی حاجت پیش آئے تو میں بحسن وخوبی بیان کرسکوں۔اس کے لئے کم ازکم اپنے آپ سے ہی ہم کلام ہوکر بیان کریں تاکہ بات اچھی طرح سمجھ آجائے اور یادداشت میں بھی مستقل محفوظ ہوجائے۔یہ ہی وہ واحد معیار ہے جو ہمارے فہم اورسمجھ کی صلاحیت کو ہم پر واضح کرے گا نیز” ہمارے اندر کسی کو سمجھانے کی کتنی قوت ہے“اس بات کا بھی پتہ چلے گا۔
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِيْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
(۳)بلند آواز سے یاد کیجئے:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!کتاب کا مطالعہ کرنے والے کے لیے مناسب ہے کہ اتنی بلند آواز سے پڑھے کہ خودسن لے چنانچہ
حضرت سیّدنا زبیر بن بکاررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:میں اپنے رجسٹر میں(موجود روایتوں کو ذہن نشین کرنے کے لیے) غور و فکرکرنے میں مشغول تھا،بلند آواز سے پڑھنے کے بجائے دل ہی دل میں دہرا رہا تھا ، اتنے میں میرے والدصاحب تشریف لائے اور مجھے مخاطب کرکے ارشاد فرمایا:اس رجسٹر میں جتنی بھی روایتیں ہیں وہ صرف آپ کی آنکھ کے ذریعے دل تک نہیں پہنچ پائیں گی،لہذا جب بھی کوئی روایت ذہن نشین کرنا چاہوتو پہلے غور سے سمجھو پھر بلند آواز سے یاد