انسانی صلاحیتوں کو دیمک کی طرح چاٹ کر آہستہ آہستہ لکڑی کی طرح بو سیدہ اور ناقابل استعمال بنادیتا ہے۔اسی لیے اللہ والے بغور سننے کی ترغیب دلایا کرتے تھے چنانچہ حضرت سیّدنا حسنرَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:حضورِ قلبی (مکمل توجہ) سے بغور سن، کیوں کہ جب دل حاضر ہوتا ہے تو کہی جانے والی تمام باتیں سمجھتا ہے لیکن جب دل غائب ہوتا ہے تو کچھ بھی سمجھ نہیں آتا۔(1)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اسی لیےحاضر دماغی اور مکمل توجہ سے سننا نہایت ضروری ہے۔یہ ہی وجہ ہے کہ کسی بات کو یاد رکھنے کے لئے ’’مکمل توجہ‘‘ کو اگر سب سے اہم ترین عنصر قرار دیا جائے تو کچھ غلط نہ ہوگا۔ کسی بات کوسنتے وقت یا کسی تحریر کو پڑھتے وقت اگر پوری توجہ نہ ہوتو اس بات کے ذہن سے جلد نکل جانے کابہت امکان ہے اور غلط مفہوم ذہن میں محفوظ ہونے کا بھی احتمال ہے۔ اسی طرح کسی چیز کو یادد اشت میں محفوظ کرنے کے لیے ’’یاد‘‘کرنابھی کامل توجہ کے زمرے میں آتا ہے اور یہ عمل بھی مطلوبہ چیز ذہن نشین کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
(۲)اچھی طرح سمجھ کریاد کریں:
جب بھی کچھ سنیں یا مطالعہ کریں تو اس بات کو مدِّنظر رکھ کرسنیئے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… الجامع فی الحث علی حفظ العلم،ص۱۸۵