Brailvi Books

گلدستۂ دُرُود و سلام
98 - 645
	اللّٰہتعالیٰ جَبلِ اُحُد شریف کے صَدقے ہمیں  بھی عشقِ رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا لازَوال جَذْبہ نصیب فرمائے اور ہمیں  مُخلِص عاشقِ رسول بنائے ۔ 
دولتِ عِشْق سے آقا مری جھولی بھردو 		بس یہی ہو مرا سامان مدینے والے
آپ کے عِشْق میں  اے کا ش کہ روتے روتے	 یہ نکل جائے مری جان مدینے والے
									(وسائلِ بخشش ،ص۳۰۵)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! 	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
عذابِ قَبْر کا ایک سَبَب
	’’اَلقَوْلُ الْبَدِیْع‘‘میں  نقل ہے، حضرت ِسَیِّدُنا ابُو بکرشِبْلی بَغْدادی علیہ رَحمَۃُ اللّٰہِ الھادی فرماتے ہیں  :’’میں  نے اپنے مرحوم پڑو سی کو خواب میں  دیکھ کر پوچھا، مَا فَعَلَ اللّٰہُ بِکَ؟ یعنی اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ کے ساتھ کیا مُعامَلہ فرمایا؟‘‘ وہ بولا: ’’میں  سخت ہولناکِیوں  سے دو چار ہو ا، مُنَکرنکیر کے سُوالات کے جوابات بھی مجھ سے  نہیں   بن پڑ رہے تھے، میں  نے دل میں  خیال کیا کہ شاید میرا خاتمہ ایمان پر  نہیں   ہوا۔‘‘ اتنے میں  آواز آئی: ’’ھٰذِہٖ عُقُوْبَۃُ اِھْمَالِکَ لِلِسَانِکَ فِی الدُّنْیَا یعنی دنیامیں  زَبان کے غیر ضَروری اِستِعمال کی وَجہ سے تجھے یہ سزا دی جارہی ہے ۔‘‘ اب عذاب کے فِرِشتے میری طر ف بڑھے۔ اتنے میں  ایک صاحِب جو حُسن و جمال کے پیکر اور مُعَطَّر مُعَطَّر تھے وہ میرے اور عذاب کے درمیان حائل ہوگئے۔