نے مُنہ سے نہ کہا تھا کہ میں آپ سے مَحَبَّت کرتا ہوں یا آپ کا چاہنے والا ہوں ۔
پانچویں یہ کہ جس انسان کے دل میں حُضُورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی مَحَبَّتنہ ہو وہ پتھر سے بھی سَخت ہے ، اللّٰہ تَعالیٰ حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مَحَبَّت نصیب کرے۔
چھٹے یہ کہ حُضُورِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مَحَبَّت ان کی محبوبیت کا ذَرِیعَہ ہے ،جو چاہتا ہے کہ حُضُورِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اس سے مَحَبَّت کریں تو اسے چاہیے کہ حُضُورِانور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے مَحَبَّت کرے، دیکھو یہاں فرمایا کہ ہم بھی اُحُد سے مَحَبَّت کرتے ہیں ۔
ساتویں یہ کہ جو (حضرات) حُضُورِانور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے محبوب ہوگئے اُن کے آستانے مَرجَعِ خَلَائِق ہوگئے ، دیکھو حضرتِ سَیِّدُنا خواجہ اَجمیری، حُضُور غوثِ پاک، حضرت داتا گَنْج بَخْش رَحْمۃُ اﷲ تعالٰی عَلَیْہم اَجْمَعِیْن کے آستانوں کی رَونقیں یہ اسی محبوبیت کی جَلْوہ گَری ہے، اعلیٰ حضر ت فرماتے ہیں ۔
وہ کہ اِس دَرْ کا ہوا خلقِ خُدا اُس کی ہوئی
وہ کہ ِاس دَر سے پھرا اﷲ اُس سے پھر گیا (حدائقِ بخشش ،ص۵۳)
(مرآۃ ،۴/۲۱۹ تا۲۲۰)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد