حدیث پاک سے حاصل ہونے والے سات مدنی پھول
مزید فرماتے ہیں :’’ اس حَدیث سے چند ایمان اَفروز مَسائل ثابت ہوئے :
ایک یہ کہ تمام حسین صِرف انسانوں کے مَحبوب ہوئے، حُضُورِانور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم انسان، جنّ ، لکڑی، پتھراور جانوروں کے بھی مَحبوب ہیں ، یعنی خُدائی کے مَحبوب ہیں کیونکہ خدا کے مَحبوب ہیں ۔
دوسرے یہ کہ دوسرے مَحبوبوں کو ہزاروں نے دیکھا مگر عاشِق ایک دو ہوئے، حُضُورِ انور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مَحبوبیت کا یہ عالَم ہے کہ آج ان کا دیکھنے والا کوئی نہیں اور عاشِق کروڑوں ہیں ۔
حُسنِ یوسف پہ کٹِیں مِصر میں اَنگُشتِ زَناں
سرکٹاتے ہیں ترے نام پہ مردان عَرب (حدائقِ بخشش ، ص ۵۸)
تیسرے یہ کہ حُضُورِ انو رصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو پتھر کے دل کا حال معلوم ہے کہ کس پتھر کے دل میں ہم سے کتنی مَحَبَّتہے تو ہمارے دِلوں کا اِیمان، عِرفان، مَحَبَّتو عَداوَت وغیرہ بھی یقیناً معلوم ہے، یہ ہے علمِ غیبِ رسول ۔
چوتھے یہ کہ حُضُورِ انور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اپنا عِشْق و مَحَبَّت جتانے ، ظاہر کرنے کی ضَرورت نہیں ، ا نہیں ہمارے حالات خُود ہی معلوم ہیں ، اُحُد