اس حدیثِ پاک کے تحت مشکاۃ المصابیح کی شرح مراۃ المناجیح میں ارشاد فرماتے ہیں : ’’اُحُد شریف مَدینہ پاک سے جانبِ مَشرق تَقریباً تین مِیل دُور ایک پہاڑ ہے، مَدینہ مُنوَّرہ خُصُوصاً جنَّتُ الْبقِیع سے صاف نَظر آتا ہے، وہاں شُہدائے اُحُد خُصُوصاً سَیِِّدُ الشُّہَدَاء حضرتِ سَیِّدُنا اَمیرِ حَمزہ (رَضی اللّٰہ تعالٰی عَنْہُم اَجْمعین)کے مَزارات ہیں ، زائرین جُوق دَر جُوق اس پہاڑ کی زِیارت کرتے ہیں ، میں نے حُجَّاج کو اِس پہاڑ سے لپٹ کر روتے اور وہاں کے پتھروں کو چُومتے دیکھا ہے۔ ہر مُومن کے دل میں قُدْرتی طور پر اس کی مَحَبَّت ہے ۔ حق یہ ہے کہ خود یہ پہاڑ ہی حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے مَحَبَّتکرتا ہے۔ لکڑیوں پتھروں میں احساس بھی ہے اور مَحَبَّت و عَداوت کا مادَّہ بھی ، حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے فِراق میں اُونٹ بھی روئے اور لکڑیوں نے بھی گِریہ و زاری و فریاد کی ہے ۔ (لمعات ، مرقات، محی السنہ)
لہٰذا حق یہ ہے کہ خودحُضُورِ انور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اُحُدپہاڑ سے، اس علاقے سے، وہاں کے پتھروں سے مَحَبَّتفرماتے ہیں اور یہ تمام چیزیں بِعَیْنِہٖ حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے مَحَبَّتکرتی ہیں ، اَحادیث سے ثابت ہے کہ حُضُور انور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اُحُد پر چڑھے تو اُحُد کو وَجْد آگیا اور وہ جھومنےلگا۔‘‘