بیان نمبر:9
ایک قِیراط اَجْر
سرکارِ مدینہ ،راحتِ قلب وسینہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ باقرینہ ہے: ’’مَنْ صَلَّی عَلَیَّ صَلَاۃً کَتَبَ اللّٰہُ لَہُ قِیْرَاطاً وَالْقِیْرَاطُ مِثْلُ اُحُد، یعنی جو مجھ پر ایک مرتبہ دُرُود شریف پڑھتا ہے اللّٰہ تعالیٰ اُس کیلئے ایک قِیراط اَجر لکھتا اورایک قِیراط اُحُد پہاڑ جتنا ہے۔‘‘ (کنز العمال،کتاب الاذکار،الباب السادس فی الصلاۃ علیہ وعلی آلہ، ۱/ ۲۴۹،الجزء الاول، حدیث:۲۱۶۳)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! بیان کردہ حدیثِ پاک میں جَبَلِ اُحُد کا تَذْکرہ ہے۔یہ وہ خُوش نصیب پہاڑ ہے جسے کئی مرتبہ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی قَدم بوسی کا شرف حاصل ہوا ہے اور یہ پہاڑ عاشقِ رسول ہے۔ چنانچہ اللّٰہ کے محبوب ،دانائے غیوبصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ مَحَبَّت نشان ہے: ’’اُحُدٌ جَبَلٌ یُحِبُّنَا وَنُحِبُّہٗ ،یعنی اُحُد وہ پہاڑ ہے جو ہم سے مَحَبَّت کرتا ہے اور ہم اس سے مَحَبَّت کرتے ہیں۔‘‘(بخاری ،کتاب الزکاۃ ،باب خرص التمر ، ۱/۵۰۰،حدیث:۱۴۸۲)
مُفسرِ شہیر حکیم الاُمَّت حضرتِ مُفْتِی احمد یار خان نعیمی علیہ رَحمۃ اللّٰہ الْقَوی