Brailvi Books

گلدستۂ دُرُود و سلام
92 - 645
آمنہ کے لال مجھ کو دیجئے سوزِ بلال
مالِ دُنیا سے مُجھے ہوجائے نَفرت یارسُول		    
(وسائلِ بخشش ، ص۱۴۲)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! 	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
دُرُود خوان مکّھیاں 
حضرتِ سیِّدُنامولانا جَلالُ الدِّین رُومی عَلَیْہ رَحْمَۃُاللّٰہِ الْقَوِی مَثْنوِی  شریف میں  فرماتے ہیں  :’’ایک بار تاجدارِ مدینہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے شہد کی مکھی سے دَرْیافت فرمایا کہ تُو شہد کیسے بناتی ہے؟ ‘‘اُس نے عرض کی: ’’یاحبیبَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!ہم چَمن میں  جا کر ہرقِسم کے پُھولوں  کا رَس چُوستی ہیں  پھر وہ رَس اپنے مُنہ میں  لیے ہوئے اپنے چَھتّوں  میں  آجاتی ہیں  اور وہاں  اُگل دیتی ہیں  وہی  شہد  ہے۔ اِرشاد فرمایا :’’ پُھولوں  کے رَس تو پھیکے ہوتے ہیں  اور شہد میٹھا، یہ تو بتاؤ کہ شہد میں  مِٹھاس کہاں سے آتی ہے؟‘‘ مَکھی نے عرض کی:
گُفْتْ چُوْں  خُوَانَیْم بَرا حمد دُرود
مِیْ شَوَدْ شِیْرِیں  وَ تَلْخِی رَا رَبُوْد
’’یعنی ہمیں  قُدْرت نے سِکھا دیا ہے کہ چَمن سے چَھتیّ تک راستے بھر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر دُرُود شریف پڑھتی ہوئی آتی ہیں  ۔ شہد  کی یہ لذَّت اورمِٹھاس دُرُودِپاک ہی کی بَرَکت سے ہے۔  (شانِ حبیب الرحمن ، ص ۱۸۷)