Brailvi Books

گلدستۂ دُرُود و سلام
91 - 645
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! واقعی آپ نے کبھی کسی مالدار کو یہ کہتے  نہیں   سُنا ہوگا کہ ’’بہت مال کما لیا،اب بس‘‘ بلکہ وہ مزید دولت کمانے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔اسی طرح کوئی عالِم ایسا  نہیں   ملے گا کہ جو یہ کہے’’بہت پڑھ لیا ،اب مجھے مزید پڑھنے کی حاجت  نہیں   ‘‘بلکہ ہر عالِم مزید عِلْم کی طلب میں  رہتا ہے۔ چُنانچہ 
دو حَریص
سرکارِ مدینہ ،راحتِ قلب وسینہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:’’مَنْہُوْمَانِ لَا یَشْبَعَانِ دوحَریص کبھی سیر  نہیں   ہوسکتے۔‘‘
’’مَنْہُوْْْمٌ فِی الْعِلْمِ لَا یَشْبَعُ مِنْہُ ،یعنی ایک عِلْم کا حَریص کہ کبھی حُصُولِ عِلْم سے سیر  نہیں   ہوتا، وَمَنْہُوْمٌ فِی الدُّنْیَا لَا یَشْبَعُ مِنْہَا،اور دوسرا مال کا حَریص کہ کبھی حُصُولِ مال سے سیر  نہیں   ہوتا۔‘‘ (مشکاۃ ،کتاب العلم،الفصل الثالث، ۱/۶۸،حدیث:۲۶۰)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دُرُود شریف کی بَرَکت سے اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  قَناعَت کی دولت نصیب ہوگی اورقَناعَت ( یعنی جو مِل جائے اُس پر راضی رہنا) ہی اَصل میں  غَنا (یعنی دَولتمندی ) ہے۔ دُنْیوِی مال کا حَریص ہی حقیقت میں  مُحتاج ہے خواہ کتنا ہی مالدار ہو۔قَناعَت وہ خزانہ ہے جو کہ خَتْم ہونے والا  نہیں   ہے اور دُنْیوِی مال سے یقیناً اَفْضَل ہے کیونکہ دُنْیوِی مال فانی بھی ہے اور وَبال بھی کہ قیامت میں  اس کا حساب دینا پڑے گا۔