نہیں بھرسکتی اور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ توبہ کرنے والے کی توبہ قَبول فرماتا ہے۔‘‘ (بخاری،کتاب الرقاق، باب مَا یُتَّقَی مِنْ فِتْنَۃِ الْمَالِ، ۴/۲۲۸، حدیث:۶۴۳۶)
مُفسرِ شہیر،حکیم ُالامَّت حضرتِ مُفْتِی احمد یار خان نعیمی عَلَیْہِ رَحْمۃُ اللّٰہِ الْقَویاس حدیثِ پاک کے تَحت ارشاد فرماتے ہیں :’’یہاں دو اور تین حَد بندی کے لیے نہیں ۔مَطْلب یہ ہے کہ اگر دو جنگل بھر مال ہو تو تیسرے جنگل کی خواہش کرے اور اگر تین جنگل مال ہو تو چوتھے کی ،اسی طرح سلسلہ قائم رکھے۔ انسان کی ہوس زِیادہ مال سے نہیں بُجھتی، یہ تو فَضْلِ ذُوالجلال سے بُجھتی ہے ۔‘‘
’’اِنسان کے پیٹ کومَٹی کے سِواء کوئی چیز نہیں بھرسکتی ‘‘کے تَحت فرماتے ہیں :’’ مَٹی سے مُراد قبر کی مَٹی ہے یعنی انسان کی ہَوَس قبر تک رہتی ہے ، مر کر ہَوَس ختم ہوتی ہے۔ یہ حکم عُمُومِی ہے ، اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے نیک بندے اور صابِر و شاکِر بندے اس حکم سے علیحدہ ہیں جیسے حضراتِ اَنبیا ئے کِرام عَلَیْھِمُ الصَّلٰوۃُوالسَّلام اور خالص اَولیاء اللّٰہ رَحِمہُم اللّٰہ تعالٰی، مگر ایسے قَناعَت والے بہت کم ہیں ۔صُوفیاء فرماتے ہیں :’’ انسان کی پیدائش مَٹی سے ہے اورمَٹی کی فِطْرت خشکی ہے، اس کی خشکی صِرف بارش سے ہی دُور ہوتی ہے۔ بارش ہونے پر اس میں سَبزہ پھل سب کچھ ہوتے ہیں ۔یوں ہی اگر انسان پر توفیق کیبارش نہ ہو تو انسان مَحض خشکا ہے ، اگر نبوت کے بادل سے توفیق ہدایت کی بارش ہو تو اس میں ولایت اور تقویٰ وغیرہ کے پھل پھول لگتے ہیں ۔‘‘ (مراٰۃ ،۷/ ۸۹)