Brailvi Books

گلدستۂ دُرُود و سلام
89 - 645
’’اگرکوئی شخص مذکورہ تعداد میں  دُرُودِپاک کا وِرْد کرے پھربھی اُس کا فَقر ( محتاجی)دُور نہ ہو تو یہ اُس کی نِیَّت کا فُتور ہے اور اُس کے باطِن میں  خَرابی کی وَجہ سے کام  نہیں   بن سکا۔دَرْاَصل دُرُودِ پاک پڑھنے میں   نِیَّت اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اور اُس کے پیارے حبیبصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا قُرب حاصل کرنے کی ہو۔ پھر اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ مُحْتاجی ضَرور دُور ہوگی اور یاد رکھیئے! مُحْتاجی صِرف مال کی کَمی کا نام  نہیں   ہے بلکہ بَسا اَوقات مال کی کثرت کے باوجود بھی انسان مُحْتاجی کا شِکوہ کرتا ہے جو کہ مال کی حرص اور لالچ کی نشانی ہے۔ حریص انسان کو چاہے کتنی ہی دَولت مل جائے وہ ہَلْ مِن مَّزِیْد(یعنی مزید مل جائے) کے نعرے لگاتا رہتا ہے ۔ چُنانچہ
آدَمی کا پیٹ قَبْر کی 
مَٹی ہی بھرے گی
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے محبوب،دانائے غُیُوبصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عِبرت نِشان ہے:’’لَوْ کَانَ لِاِبْنِ اٰدَمَ وَادِیَانِ مِنْ مَالٍ لَابْتَغٰی ثَالِثاً وَلَا یَمْلَاُ جَوْفَ ابْنِ اٰدَمَ اِلَّا التُّرَابُ وَیَتُوْبُ اللّٰہُ عَلٰی مَنْ تَابَ،یعنی اگر اِنسان کے پاس مال کے دو جنگل ہوں  تو وہ تیسرا تلاش کرے گا اور اِنسان کے پیٹ کومَٹی کے سِوا کوئی چیز