Brailvi Books

گلدستۂ دُرُود و سلام
87 - 645
بابَرَکت میں  حاضِر ہو کر ایک عورت نے عَرض کی ـ:’’ میری جوان بیٹی فوت ہوگئی ہے، کوئی طریقہ ارشاد ہو کہ میں  اسے خَواب میں  دیکھ لوں ۔‘‘ آپ رَحمۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے اُسے عمل بتا دیا ۔اُس نے اپنی مرحومہ بیٹی کو خَواب میں  تو دیکھا، مگر اِس حال میں  دیکھا کہ اُس کے بدن پر تارکَول (یعنی ڈامَر) کا لباس، گردن میں  زنجیر اور پاؤں  میں  بَیڑیاں  ہیں  !یہ ہیبت ناک مَنْظردیکھ کر وہ عورت کانپ اُٹھی! اُس نے دوسرے دن یہ خَواب حضرتِ سیِّدُنا حسن بَصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُاللّٰہِ الْقَویکو سنایا ، سن کرآپ رَحمۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِبَہُت مَغْموم ہوئے ۔کچھ عرصے بعد حضرت ِ سیِّدُنا حسن بَصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوی نے خَواب میں  ایک لڑکی کو دیکھا، جو جَنَّت میں  ایک تَخت پر اپنے سر پر تاج سجائے بیٹھی ہے ۔ آپ رَحمۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِکو دیکھ کر وہ کہنے لگی:’’ میں  اُسی خاتُون کی بیٹی ہوں  ، جس نے آپ کو میری حالت بتائی تھی۔ ‘‘آپ رَحمۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا: ’’اُس کے بَقَول تو تُو عذاب میں  تھی، آخِر یہ اِنقِلاب کس طرح آیا ؟‘‘ مرحومہ بولی: ’’قبرِستان کے قریب سے ایک شخص گُزرا اور اس نے مُصطَفٰے جانِ رَحمت ،شمعِ بزمِ ہدایتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر دُرُود بھیجا، اُس کے دُرُود شریف پڑھنے کی بَرَکت سے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے ہم پانچ سو ساٹھقَبْر والوں  سے عذاب اُٹھالیا۔ ‘‘  (ماخوذ از التذکرۃ فی احوال الموتٰی واُمور الآخرۃ ،۱/۷۴)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! 	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد