Brailvi Books

گلدستۂ دُرُود و سلام
84 - 645
 ان کے کلام سے فَیض حاصِل کرتا اور ان سے آداب سیکھتا پھر میں  تُسْتَر کی طرف آگیا ۔ میں  نے گزربسر کا انتِظام یوں  کیا کہ میرے لیے ایک دِرْہَم کے جَو شریف خرید لئے جاتے اور ا نہیں   پیس کر روٹی پکالی جاتی ۔ میں  ہر رات سَحَری کے وَقْت ایک اُوْقِیَہ (یعنی تقریباً 70 گرام ) جَو کی روٹی کھاتا ، جس میں  نہ نَمک ہوتا اور نہ ہی سالن ۔ یہ ایک دِرْہم مجھے سال بھر کیلئے کافی ہوتا ۔ پھر میں  نے ارادہ کیا کہ تین دن مُسلسل فاقہ کروں  گا اور اس کے بعد کھاؤں  گا۔ پھر پانچ دن،پھر سات دن اور پھر پچیس دنوں  کا مُسلسل فاقہ رکھا۔ ( یعنی 25 دن کے بعد ایک بار کھاناکھاتا۔) بیس سال تک یِہی طریقہ رہا پھر میں  نے کئی سال تک سَیروسیاحت کی، واپَس تُسْتَر آیا تو جب تک اللّٰہ تعالیٰ نے چاہا شب بیداری اِختیار کی۔ حضرتِ سیِّدُناامام احمد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الاحد فرماتے ہیں  :’’ میں  نے مرتے دم تک سیِّدُنا سَہْل بن عبدُاللّٰہ تُسْتَری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقوی کو کبھی نَمَک استِعمال کرتے ہوئے  نہیں دیکھا۔‘‘(احیاء علومُ الدِّین، کتاب ریاضۃ النفس وتہذیب الاخلاق،۳/ ۹۱)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اس پُرفِتن دور میں  دَعوتِ اسلامی کے تَحت مَدْرَسۃُ الْمَدِیْنَہ قائم ہیں  جن میں  دُرُست تَلَفُّظ سے قُراٰنِ پاک کی تعلیم کیساتھ ساتھ بہتر اَخلاقی تَربیت بھی کی جاتی ہے، اس کے علاوہ اَولاد کی تربیت کرنے کیلئے دعوتِ اسلامی کے اِشاعَتی اِدارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ188 صفحات پرمُشتمل کتاب’’تربیتِ اَولاد‘‘کا ضَرور مُطالَعہ فرمائیں ۔ اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ