تمہیں دنیا و آخِرت میں نَفْع دے گا ۔‘‘ سیِّدُنا سَہْل بن عبد اللّٰہ تُسْتَری عَلَیْہِ رَحْمَۃُاللّٰہِ الْقوی فرماتے ہیں :’’میں نے کئی سال تک ایساہی کیا تو میں نے اپنے اندر اِس کا بے انتِہا مَزہ پایا۔ میں تَنہائی میں یہ ذِکْر کرتا رہا۔‘‘ پھر ایک دن میرے ماموں جان عَلَیْہِ رَحْمَۃُالرَّحمٰننے فرمایا:’’ اے سَہْل! اللّٰہ تعالیٰ جس شخص کے ساتھ ہو، اسے دیکھتا ہو اوراس کا گواہ ہو، کیا وہ اس کی نافرمانی کرتا ہے؟ ہرگز نہیں ۔ لہٰذا تُم اپنے آپ کو گُناہ سے بچاؤ۔‘‘پھرماموں جانعَلَیْہ رَحْمۃُ الْحنَّان نے مجھے مکتب میں بھیج دیا ۔ میں نے سوچا کہیں میرے ذِکْر میں خَلَل نہ آجائے لہٰذا اُستاذ صاحِب سے یہ شَرْط مُقرَّر کر لی کہ میں ان کے پاس جا کر صِرْف ایک گھنٹہ پڑھوں گا اور واپَس آجاؤں گا۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ میں نے مکتب میں چھ یا سات برس کی عمر میں قُراٰن پاک حِفْظ کرلیا۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ میں روزانہ روزہ رکھتا تھا ۔ بارہ سال کی عُمر تک میں جَو کی روٹی کھاتا رہا۔ تیرہ سال کی عُمر میں مجھے ایک مَسئلہ پیش آیا ۔ اس کے حل کیلئے گھر والوں سے اِجازت لیکر میں بَصْرہ آیا اور وہاں کے عُلما سے وہ مَسئلہ پُوچھا، لیکن ان میں سے کسی نے بھی مجھے شافی جواب نہ دیا۔ پھر میں عَبَّادَان کی طرف چلا گیا ۔ وہاں کے مَشہور عالمِ دِین حضرتِ سیِّدُنا ابُو حَبیب حَمزہ بن اَبی عبدُاللّٰہعَباّدانی قُدِّسَ سِرُّ ہُ الرَّبّانی سے میں نے مَسئلہ پوچھا تو اُنہوں نے مجھے تَسلِّی بَخش جواب دیا ۔ میں ایک عَرصہ تک ان کی صُحبت میں رہا،