Brailvi Books

گلدستۂ دُرُود و سلام
81 - 645
	اس حدیثِ پاک کے تَحت شارحِ بُخاری حضرت علّامہ مولانا مُفْتِی محمد شریفُ الحَق اَمْجَدی عَلَیْہِ رَحْمَۃُاللّٰہِ الْقَوی فر ما تے ہیں  : ’’رَعِیَّت سے مُراد وہ ہے جو کسی کی نِگہبانی میں  ہو ۔ اس طرح عَوام سُلطان اور حاکِم کے، اَولاد ماں  باپ کے، تلامِذہ اَساتذہ کے، مُریدین پیر کے رِعایا ہوئے۔ یُونہی جو مال زَوجہ یا اَولاد یا نوکر کی سِپُردْگی میں  ہو اس کی نِگہداشْت اِن پر واجب ہے۔ جس کے ماتَحت کوئی نہ ہو وہ اپنے اَعضاء و جَوارح، اَفعال و اَقوال،اپنے اَوقات اپنے اُمور کا رَاعِی ہے۔ اِن سب کے بارے میں  وہ جَوا ب دہ ہوگا۔‘‘ (نزھۃ القاری ،۲/ ۵۳۰) 
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!ہمیں  بھی چاہیے کہ اپنی اَولاد کی بہتر تَربیت کریں  اوراِ نہیں   ’’ٹاٹا پاپا‘‘ سکھانے کے بجائے اِبتدا ہی سے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا نام لینا سکھائیں  ۔ اپنے مَدَنی مُنّے اور مَدَنی مُنّی سے کھیلتے ہوئے سکھانے کی نِیَّت سے اُن کے سامنے بار بار اللّٰہ اللّٰہ کرتے رہیں  تو وہ بھی اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  زَبان کھولتے ہی سب سے پہلا لَفْظ اللّٰہ کہیں  گے۔ 
ہمارے اَسلاف رَحِمَھُمُ اللّٰہ تَعَالٰیکس طرح بچوں  کی تَربیت فرماتے تھے اسکی ایک جَھلک اس حکایت میں  ملاحظہ فرمائیے۔ چنانچہ دعوتِ اسلامی کے اِشاعَتی اِدارے ’’مکتبۃُ المدینہ ‘‘کی مَطْبُوعہ 1539 صَفْحات پرمُشْتمِل کتاب ’’فَیضانِ سُنَّت‘‘ جلد اوَّل کے صَفْحہ 56پر ہے۔