Brailvi Books

گلدستۂ دُرُود و سلام
80 - 645
عَلَیۡہَا مَلٰٓئِکَۃٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا یَعْصُوۡنَ اللہَ مَاۤ اَمَرَہُمْ وَ یَفْعَلُوۡنَ مَا یُؤْمَرُوۡنَ ﴿۶﴾
اس پر سَخت کرّے (یعنی طاقتور)فِرِشتے مُقرَّر ہیں  جو اللّٰہکاحُکْم  نہیں   ٹالتے اور جو اُ نہیں   حُکْم ہووُہی کرتے ہیں  ۔  (پ،۲۸ التحریم: ۶)

اَہْل و عَیال کوعذاب سے کس طرح بچایا جائے؟
حضرتِسیِّدُنا صَدرُا لْافاضِل مَولانا سَیِّدمحمد نعیم ا لدِّین مُراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْہادی خَزائنُ الْعِرفانمیں  اِس حصّۂ آیت یٰٓاَ یُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْا اَنْفُسَکُمْ وَاَھْلِیْکُمْ نَارًا( اے ایمان والو ! اپنی جانوں  اور اپنے گھر والوں  کو اُس آگ سے بچاؤ) کے تَحت فرماتے ہیں  : ’’اللّٰہتعالیٰ اور اس کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی فرمانبرداری اِختیار کرکے، عِبادَتیں  بجا لا کر،گُناہوں  سے باز رہ کر اور گھر والوں کو نیکی کی ہِدایت اور بَدی سے مُمانَعت کرکے ا نہیں   عِلْم و اَدَب سکھا کر۔‘‘ 
رَحمتِ عالَم، نورِ مُجسَّم ، شاہِ بَنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ مُعظَّم ہے: ’’کُلُّکُمْ رَاعٍ وَّکُلُّکُمْ مَسْؤلٌ عَنْ رَعِیَّتِہٖ، یعنی تُم سب اپنے مُتَعَلِّقین کے سردار و حاکِم ہو اورتُم سب سے روز قِیامت اسکی رَعِیَّت کے بارے میں  پوچھا جائے گا۔‘‘(بخارِی،کتاب الجمعۃ،باب الجمعۃ فی القری والمدن ،۱/۳۰۹، حدیث :۸۹۳ )