Brailvi Books

گلدستۂ دُرُود و سلام
76 - 645
بہارِ شریعت جلد اَوَّل صفحہ533پر رَدُّ الْمُحْتار کے حوالے سے مَذکُور ہے: ’’گاہک کو سودا دکھاتے وَقت تاجر کا اس غرض سے دُرُود شریف پڑھنا یا سُبۡحٰنَ اللہ کہنا کہ اس چیز کی عُمدَگی خریدار پر ظاہر کرے ناجائز ہے۔یُونہی کسی بڑے کو دیکھ کر اس نِیَّت سے دُرُود شریف پڑھنا کہ لوگوں  کو اس کے آنے کی خَبر ہوجائے تاکہ اس کی تَعْظِیْم کو اُٹھیں  اور جگہ چھوڑدیں  ناجائز ہے۔ اسکے علاوہ بھی مزید ایسی جگہیں  ہیں  جہاں  دُرُودشریف پڑھنا مَنْع ہے۔جِماع کے وَقت، اِستنجا کرتے وَقت، جانور ذَبْح کرتے وَقت۔‘‘ (درمختارو ردالمحتار، کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلاۃ، مطلب فی المواضع التی تکرہ فیہا الصلاۃ …الخ، ۲/ ۲۸۲) 
                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                             ذِکر ودُرُود ہر گھڑی وِردِ زباں  رہے
میری فُضُول گوئی کی عادَت نکال دو		 (وسائلِ بخشش ،ص۲۹۰)
اے ہمارے پیارے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ! ہمیں  اِخلاص  کے ساتھ دُرُست مَواقع پر کثرت سے دُرُودشریف پڑھ کر تیری رِضا پانے کی توفیق عطافرما۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم