پڑھ لینا مُسْتحب اور باعثِ خَیر وبَرَکت ہے۔
(21) جب کوئی قُرآنِ پاک کاخَتْم کرے تو دُرُود شریف ضرور پڑھ لے کہ یہ نُزولِ رَحمت اور دُعا کی مَقبولیت کا وَقت ہے۔
(22)رات کونَمازِ تَہَجُّد کیلئے بیدار ہونے کے وَقت۔
(23) آفات و بَلِیَّات کو دَفْع کرنے کیلئے بکثرت دُرُود شریف پڑھنا نِہایت مُفِیْد ہے۔
(القول البدیع ،الخامس فی الصلاۃ علیہ فی اوقات مخصوصۃ، ص ۴۱۴)
(24) عِطْر، گُلاب یا کسی خُوشبو کو سونگھتے وَقت دُرُود شریف پڑھنا چاہیے ۔ حضرتِ علَّامہ شیخ عبدُالحقّ مُحَدِّث دِہلوی عَلَیْہ رَحْمۃُ اللّٰہ الْقَوینے لکھا ہے کہ خُوشبوسُونگھتے وَقت خُوشبوئے مُحمَّدی کو یاد کرکے دُرُود و سلام کا تُحفہ پیش کرے تو یہ مُسْتحسَن ہے۔
ا نہیں کی بُو مایہ سمن ہے،انھیں کاجَلوہ چَمن چَمن ہے
ا نہیں سے گلشن مَہَک ر ہے ہیں ،انھیں کی رَنگت گُلاب میں ہے (حدائقِ بخشش ،ص۱۸۰)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
کب کب دُرُود شریف پڑھنا مَمْنُوع ہے
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یاد رکھئے! زبان سے ذِکر و دُرُود باعثِ اَجر و ثواب بھی ہے اوربَعْض صُورتوں میں مَمْنُوع بھی، جیساکہ مکتبۃُ المدینہ کی مَطْبُوعہ