Brailvi Books

گلدستۂ دُرُود و سلام
71 - 645
مَنْع  نہیں   کہہ سکتے۔ خیال رہے کہ وَسیلہ سبب اور توَسُّل کو کہتے ہیں  ،چونکہ اس جگہ پہنچنا رَبّ سے قُربِ خُصُوصی کا سبب ہے اس لیے وَسیلہ فرمایا گیا۔حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وسلَّم کا یہ فرماناکہ’’میں  اُمید کرتا ہوں  ‘‘ تَواضُع اور اِنْکساری کیلئے ہے ورنہ وہ جگہ حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کیلئے نامزَدْہو چکی ہے۔ ہماراحُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کیلئے وَسیلہ کی دُعا کرنا ایسا ہی ہے جیسے فقیر اَمیر کے دَروازے پرصَدا لگاتے وَقت اس کی جان و مال کی دُعائیں دیتاہے تاکہ بھیک ملے۔ہم بھکاری ہیں  حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم داتا، ا نہیں   دُعائیں  دینا مانگنے کھانے کا ڈَھنگ ہے۔‘‘(مراٰۃ،۱/۴۱۱)
			ہم بھکاری وہ کریم ان کا خُدا ان سے فَزُوں 
		اور ’’نا‘‘کہنا  نہیں   عادت رسُول اللّٰہ کی   (حدائقِ بخشش،ص۱۵۳)
حدیث پاک کے اس حصّے ’’جو میرے لیے وَسیلہ مانگے اس کیلئے میری شَفاعَت لازِم ہے‘‘کے تَحت مُفْتِی صاحب فرماتے ہیں  : ’’یعنی میں  وَعدہ کرتا ہوں  کہ اس کی شَفاعَت ضَرور کروں  گا۔ یہاں   شَفاعَت سے خاص  شَفاعَت مُراد ہے