میری شَفاعَت لازِم ہے
(7) اَذان کے بعددُرُودوسلام اور دُعائے وسیلہ پڑھنے کا بھی معمول بنالیجئے کہ ایسا کرنا شَفاعتِ مُصْطفیٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے حُصُول کا باعث ہے، چنانچہ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کافرمانِ شَفاعت نشان ہے : ’’اِذَاسَمِعْتُمُ الْمُؤَذِّنَ فَقُوُلُوْا مِثْلَ مَا یَقُوْلُ،جب تُم مؤذِّن کو (اذان دیتے) سنو تو تُم بھی اسی طرح کہو جو وہ کہہ رہا ہے۔‘‘ ثُمَّ صَلُّوْا عَلَیَّ فَاِنَّہٗ مَنْ صَلَّی عَلَیَّ صَلَاۃً صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ بِہَا عَشْرًا‘‘پھر مجھ پر دُرُود بھیجو کیونکہ جو مجھ پر ایک دُرُود بھیجتا ہے اللّٰہتعالیٰ اس پر دس رَحمتیں نازِل فرماتاہے۔ ’’ ثُمَّ سَلُوا اللّٰہَ لِیَ الْوَسِیْلَۃَ فَاِنَّہَا مَنْزِلَۃٌ فِی الْجَنَّۃِ لَا تَنْبَغِیْ اِلَّا لِعَبْدٍ مِّنْ عِبَادِ اللّٰہِ وَاَرْجُوْ اَنْ اَکُوْنَ اَنَا ہُوَ،پھر اللّٰہ تعالیٰ سے میرے لیے وَسیلہ مانگو، وہ جَنَّت میں ایک جگہ ہے جو اللّٰہ کے بندوں میں سے ایک ہی کے لائق ہے اور مجھے اُمید ہے کہ وہ میں ہی ہوں ۔’’فَمَنْ سَءَلَ لِیَ الْوَسِیْلَۃَ حَلَّتْ لَہٗ الشَّفَاعَۃُ،تو جو میرے لیے وسیلہ مانگے اس کے لیے میری شَفاعَت لازِم ہے۔ ‘‘ (مشکاۃ ،کتاب الصلاۃ ،باب فضل الاذان واجابۃ الموذن،۱/۱۴۰، حدیث:۶۵۷ )
ایک مَسْئلہ اور اس کی وضاحت
مُفسّرِ شہیرحکیم الاُمَّت حضرت مُفْتِی احمد یار خان نعیمی(عَلَیْہ رَحمۃُ اللّٰہ الْقَوِی) اس حدیثِ پاک کے تَحت ارشاد فرماتے ہیں : ’’اس سے معلوم ہوا کہ اَذان کے بعد دُرُود شریف پڑھنا سُنَّت ہے ۔ بعض مؤذِّن اَذان سے پہلے ہی دُرُودشریف پڑھ لیتے ہیں اس میں بھی حرج نہیں ،ان کا ماخَذْ یہ ہی حدیث ہے۔ شامی نے فرمایا کہ اِقامت کے وَقت دُرُود شریف پڑھنا سُنَّت ہے ،خیال رہے کہ اَذان سے پہلے یا بعدبُلَنْد آواز سے دُرُود پڑھنا بھی جائز بلکہ ثواب ہے بِلاوجہ اسے