میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!سرکار ِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر دُرُود و سَلام بھیجنا کسی وَقت، کسی جگہ اورکسی حالت وکیفیت کے ساتھ مختص نہیں ہے۔ ہر حالت میں ہمہ دَم بہر جگہ یہ عمل باعثِ سَعادَت وفَضِیلَت اور ذَرِیعہ صَلاح و فَلاح ہے لیکن مُعْتبررِوایات کے مُطابق ان چوبیس اَوقات و مَقامات پر دُرُود و سَلام پڑھنا باعثِ فَضِیلت و مُورِثِ خَیر وبَرَکت ہے بلکہ اسکی تاکید بھی آئی ہے۔
بُزُرْگانِ دِین کا دَسْتُور
(1) جب سرکارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کانامِ نامی زبان پر لائے یا سُنے۔ چنانچہ اَصْحاب و تابِعین وجَمیع ائمہ مُحدِّثین وعُلمائے صالحین (رَحِمَھُمُ اللّٰہُ اَجْمَعِیْن) کا ہمیشہ یہی دَستور رہا ہے کہ وہ کبھی اسمِ مُبارک بغیر صلوٰۃ وسَلام کے ذکر نہیں کرتے۔(القول البدیع،الباب الخامس فی الصلاۃ علیہ فی اوقات مخصوصہ،ص۴۵۵ مفھوماََ)اسی طرح(مُحرِّر کو بھی چاہیے کہ)جب اسمِ مُبارک لکھے تو دُرُودوسَلام ضَرور لکھے،جب تک تَحریر میں اسمِ مُبارک باقی رہے گا فِرِشتے لکھنے والے پر دُرُود بھیجتے رہیں گے۔ (القول البدیع ،الباب الخامس فی الصلاۃ علیہ فی اوقات مخصوصہ،ص۴۶۰،مفہوماً)
حُصُولِ شَفاعَت کا آسان وَظِیْفہ
(3،2)ہرصُبح و شام دُرُود شریف ضرور پڑھنا چاہیے۔ کہ رسُول اللّٰہ