Brailvi Books

گلدستۂ دُرُود و سلام
67 - 645
بیان نمبر :6
قُربتِ سرکار کے حَقْدار
سرکارِ مدینہ ،راحتِ قَلب وسینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے: ’’اَوْلَی النَّاسِ بِیْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ اَکْثَرُہُمْ عَلَیَّ صَلَاۃً ،یعنی قیامت کے دن لوگوں  میں  سب سے زِیادہ میرے قَریب وہ شخص ہوگا جو سب سے زِیادہ مجھ پر دُرُود شریف پڑھتا ہوگا ۔‘‘ (ترمذی،أبواب الوتر،باب ماجاء فی فضل الصلاۃ علی النبی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ،۲/۲۷،حدیث:۴۸۴)
مُفسّرِ شہیرحکیم الاُمَّت حضرت مُفْتِی احمد یار خان نعیمی عَلَیْہ رَحْمۃ اللّٰہ الْقَوِی اس حدیثِ پاک کے تَحت ارشاد فرماتے ہیں  : ’’قیامت میں  سب سے آرام میں  وہ ہوگا جو حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ رہے اورحُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ہَمراہی نصیب ہونے کا ذَرِیعَہ دُرُودشریف کی کثرت ہے اس حدیثِ پاک سے معلوم ہوا کہ دُرُود شریف بہترین نیکی ہے کہ تمام نیکیوں  سے جَنَّت مِلتی ہے اور اس سے بزمِ جَنَّت کے دُولہا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ملتے ہیں  ۔‘‘ (مراٰۃ،۲/۱۰۰)
                حشر میں  کیا کیا مزے وارفتگی کے لوں  رَضا   
لوٹ جاؤں پا کے وہ دامانِ عالی ہاتھ میں  	 (حدائق بخشش،ص۱۰۴)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! 	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد