میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے جو شخص نام پاک سن کر دُرُودِ پاک نہ پڑھے وہ بَخیل ہے اوراللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی لعنت کا مُستحق ہے ہمیں بھی چاہئے کہ جب بھی موقع ملے اپنے پیارے نبی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر دُرُودِ پاک پڑھ لیاکریں اور بالخُصوص اگر کسی مجلسِ ذِکر میں شِرکت کی سَعادت نصیب ہو توکچھ نہ کچھ دُرُود کا اِہتمام ضَرور فرمائیے ورنہ روزِ قیامت حسرت ہمارا مُقَدَّر ہوگی ۔ جیسا کہ
باعثِ حسرت مَجْلِس
حضرت سَیِّدُنا ابُوہریرہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے مَروی ہے کہ نبیِّ رَحمت صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے ارشاد فرمایا :’’ جب لوگ کسی مَجلس میں بیٹھتے ہیں اور اس میں نہ اپنے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکا ذِکر کرتے ہیں اور نہ اپنے نبیِّ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر دُرُودپڑھتے ہیں ۔ قیامت کے دن وہ مَجلس ان کے لیے باعثِ حَسرت ہوگی اور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّچاہے تو ان کو عذاب دے اور چاہے تو بَخش دے۔‘‘ (مسند ا حمد،مسندابی ہریرۃ، ۳/۵۳۳،حدیث۱۰۲۸۱ )
جَنَّت میں داخلے کے باوجود حسرت
حضرت ِ سَیِّدُناابُوسعید خُدری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ نبیِّکریم ، رَء ُوْفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وسلَّم کا فرمانِ عِبرت نِشان ہے۔ ’’کسی قوم نے کوئی مَجلس قائم کی اور اس میں مجھ پر دُرُود نہ پڑھا تو وہ ان کے