وَسَلَّم! میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں ج نہیں میں دُودھ پلاتی ہوں ۔ اب و ہ بھوکے ہوں گے۔ اس شِکاری کو حکم فرمائیے کہ یہ مجھے چھوڑ دے تاکہ میں اپنے بچوں کو جا کر دُودھ پلاؤں ، پھر میں واپَس آجاؤں گی۔‘‘حُضُور عَلَیْہ الصَّلٰوۃ وَ السَّلام نے ارشاد فرمایا :’’ اگر تو واپَس نہ آئی تو پھر ؟ ‘‘ہَرْنی نے عرض کی: ’’یارسُولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! اگر میں واپَس نہ آؤں تو مجھ پر اس شخص کی طرح اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی لعنت ہوجو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا ذِکر سُنے اور آپ پر دُرُودنہ پڑھے یا اس آدمی کی طرح مجھ پر لعنت ہو جو نماز پڑھے اور دُعا نہ مانگے۔‘‘حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے شِکاری کواسے آزاد کرنے کا حکم دیا اور فرمایا: ’’میں اس کا ضامن ہوں ۔‘‘ چنانچہ ہَرْنی دُودھ پلا کر واپَس آگئی، پھر حضرتِ جبریل علیہ السلام بارگاہِ رسالت میں حاضِر ہوئے اور عرض کی:’’یارسُولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سلام ارشاد فرماتا ہے اور فرماتا ہے مجھے اپنی عِزَّت و جلال کی قسم! میں آپ کی اُمَّت پر اس سے بھی زِیادہ مہربان ہوں جیسے اس ہَرْنی کو اپنی اولاد پر شفقت ہے اور میں آپ کی اُمت کو آپ کی طرف لوٹاؤں گا جیسے کہ یہ ہَرْنی آپ کی طرف لوٹ کرآئی۔‘‘ (القول البدیع، الباب الثالث فی التحذیرمن ترک الصلاۃ علیہ عندمایذکر، ص۳۰۳)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد