مُفسّرِ شہیرحکیم الاُمَّت حضرت مُفْتِی احمد یار خان نعیمی عَلَیْہ رَحْمۃ اللّٰہ الْقَوِی اس حدیثِ پاک کے تَحت ارشاد فرماتے ہیں :’’کیونکہ دُرُود میں کچھ خرچ تو ہوتا نہیں اور ثواب بہت مل جاتا ہے،اس ثواب سے مَحرومی بڑی ہی بَدْنصیبی ہے۔ اس حَدِیث سے معلوم ہوا کہ جب بھی حُضُورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا نام سُنے یا پڑھے تو دُرُود شریف ضَرور پڑھے کہ یہ مُسْتحَب ہے۔‘‘ (مراٰۃ،۲/۱۰۶)
دو جہاں کے تاجْوَر،سُلطانِ بَحرو بَرصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے: ’’اَلاَ اُخْبِرُکُمْ بِاَبْخَلِ النَّاس، یعنی کیا میں تمہیں لوگوں میں سب سے بڑے بَخیل کے بارے میں نہ بتاؤں ؟‘‘ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْواننے عرض کی : ’’یارسُولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! ضرور بتائیے۔ ‘‘ارشاد فرمایا : ’’مَنْ ذُکِرْتُ عِنْدَہٗ فَلَمْ یُصَلِّ عَلَیَّ فَذٰلِکَ اَبْخَلُ النَّاس،جس کے سامنے میرا ذِکر ہو پھربھی وہ مجھ پر دُرُودِپاک نہ پڑھے تو وہ سب سے بڑا بَخیل ہے۔‘‘ (الترغیب والترہیب، کتاب الذکروالدعا،باب الترغیب فی اکثارالصلاۃ علی النبی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ، ۲/۳۳۲، حدیث: ۲۶۱۳)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
اللّٰہ کی لَعْنَت
حُضُورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃ وَالسَّلامکے پاس سے ایک آدَمی گزرا جس کے پاس ایک ہَرْنی تھی جسے اِس نے شِکار کیا تھا۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے اس ہَرْنی کو قُوَّتِ گویائی عطا فرمائی، ہَرْنی نے عرض کی: ’’یارسُولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ